بہترواں یومِ آزادی

یومِ آزادی مبارک ہو

اگر کسی نے آزادی کی قیمت کا اندازہ کرنا ہو تو وہ ایک دفعہ فلسطین کا چکر لگا لے، کشمیر دیکھ لے۔ ہاں وہاں جانا زرا مشکل ہو گا، قدرت اللہ شہاب کا ناولٹ “یاخدا” پڑھ لے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایک دھندھلی سی تصویر ضرور بنے گی جو بے اختیار اشکبار کر دے گی۔

برصغیر کی تقسیم نظریاتی تھی ۔ اس کا مخالف نظریہ علاقائیت کا تھا کہ برصغیر اٹوٹ انگ ہے۔ اگر یہ تقسیم تنظیمی ہوتی تو سیاسی جدوجہد کامیاب ہو جاتی۔ مگر اس جدوجہد میں جب ایک نظریہ شامل ہوا اور وہ نظریہ مذہبِ اسلام تھا، تب جا کر یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

پاکستان بن گیا مگر ہمارے دشمنوں نے اُسی مخالف نظریے کو فعال کیا اور ہمیں سندھی پنجابی بلوچی اور پشتون میں بانٹنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ اس کے کچھ عناصر آج بھی فعال ہیں۔ ہم اس تقسیم کی قیمت مسلسل چکاتے آرہے ہیں۔ مگر بہتر سال گزرنے کے بعد آج ایک بار پھر ہم اسلام اور پاکستانیت میں پرو گئے ہیں۔

صاحبانِ بصیرت اس بات کو سمجھ رہے ہیں ، یہ بہتر کا لفظ بہت معتبر ہے۔ اب ہم قربانی دے چکے ہیں۔ اب ہم نے آگے بڑھ جانا ہے۔ آج گوادر سے خنجراب تک ہم سبز ہلالی پرچم میں لپٹ گئے ہیں۔ جو لوگ ابھی تک اس کسی بھی وجہ سے رُکے ہوئے ہیں، ان کو میں آج پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اب ہمیں دنیا کی کوئی طاقت آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ آئیے! روزِ روشن کا استقبال کریں۔

میں کل رات کسی نجی کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا، یقین کیجیے لوگوں میں اس دفعہ ایک پُرامید قسم کی مسرت دیکھنے کو ملی۔ اس دفعہ ایک نیا رنگ ہے جو پورے ملک و قوم پہ چڑھا ہے۔ ایک ولولہ ہے، کچھ کر جانے کا عزم ہے جو ہر ہر چہرے سے جھلک رہا ہے۔ ہر ادارہ، ہر علاقہ اور ہر ہر فرد ایک نشے میں ہے کہ پاکستان کوئی چیز ہے، دنیا کے نقشے پہ ہمارا نام کسی عظیم مقصد کے تحت کنندہ ہے۔

محدود ذہنیت کے محدود منصوبوں کے مطابق ۲۰۲۰ء میں پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے پہ موجود نہ تھا مگر بیشک اللہ پاک بہترین چال چلنے والے ہیں ، ہم آج زندہ ہیں اور ۲۰۲۰ میں ہم ایک فخر کے ساتھ اقوامِ عالم میں موجود ہوں گے اور یہ بہتر کا ہندسہ عبور کرنے پہ سرفرازی ہے۔

آئیے! آج عہد کریں کہ اس سال ہم کچھ نا کچھ ایسا ضرور کریں گے کہ اگلے سال اس عمل کا فخر سے اعادہ کر سکیں اور جتنا ہو سکے، اس ملک کیلئے کچھ نا کچھ منفعت بخش ضرور کر سکیں۔ پاکستان اللہ پاک کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ ورنہ جو قوم سوئی نہیں بنا سکتی، ایٹم بم بنا لینا کوئی عام بات نہیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ پاکستان کو سرفراز فرمائیں، اپنے خصوصی کرم کا معاملہ فرماتے ہوئے اپنے پیاروں کے سایہ میں ہمارے عمل کی راہ متعین کرنے کی راہنمائی عطا فرمائیں اور سب سے بڑھ کر ہمارے حکمرانوں کو صحیح وقت پہ صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ ہماری تمامتر کامیابیوں کا راز اسی ایک بات میں مضمر ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

فراری سے فلاح تک کا پاکستان

سنا ہے کہ ایک دفعہ فراری کمپنی کے مالک نے ایک ٹریکٹر کمپنی کے مالک کو کہا تھا کہ آپ ہوسکتا ہے ٹریکٹر کو بہتر طریقے سے چلا سکو مگر ایک فراری کار کو ہینڈل کرنا آپ کا کام نہیں۔ پھر تاریخ نے اس ٹریکٹر والے کو لمبورگینی بناتے اور چلاتے دیکھا۔ سنا ہے ہنڈا کمپنی کے مالک کو ٹیوٹا کمپنی نے یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ تمہارے آئیڈیاز اور ڈیزائن اس قدر احمقانہ ہیں کہ ان کو عملی شکل دینا بے وقوفی ہو گی۔

پھر سُنا ہے کہ ایک بندے کو اُس وقت کے حکمران خاندان کے وزیرِ اعظم نے بڑی حقارت سے کہا تھا کہ یہ قومی اسمبلی کی ایک سیٹ والا کیا کر لے گا۔ آج وہی ایک سیٹ والا اُسی ملک کا وزیرِ اعظم بننے جا رہا ہے۔

زندگی میں کبھی بھی یہ نا سوچیں کہ آپ کا سامنا کن حالات ، کن لوگوں اور کن مسائل سے ہے۔ زندگی میں صرف اور آرف وہی ہوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے خوابوں کو مقدم جانتے ہیں اور ان کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ ان کا ہر ہر قدم ان خوابوں کی عملی تعبیر کی جانب ہوتا ہے۔

پرانے کنگ فو فائیٹرز آج بھی اس بات پہ مکمل یقین رکھتے ہیں کہ ان میں ایک مخفی انرجی ہوتی ہے جو “چی” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے خواب کی تعبیر کیلئے اپنی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں وقف کر دے تو آہستہ آہستہ اُس میں وہ مخفی انرجی بیدار ہو جاتی ہے اور وہ انسان ایسے ایسے کام کر جاتا ہے جو عام حالات میں ناممکن ہوتے ہیں۔ کچھ فائیٹرز نے اس بات کا عملی مظاہرہ بھی کرکے دکھایا ہوا ہے کہ اگر اپنی “چی” کو لڑائی کے دوران کسی بھی ایک حصے پہ مرکوز کر دیں تو اس حصے کو تلوار بھی نہیں کاٹ سکتی۔

تو بات یہ ہے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے، اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ اگر درج بالا تمام لوگ صرف ایک جملے سے شروع کرکے اس قدر ترقی کر سکتے ہیں تو ہم تمام لوگ روزنہ کے چند لمحے اس ملک کو دے کر کہاں سے کہاں لے جا سکتے ہیں۔ میں بہت عرصے سے سوچتا تھا کہ میں اس ملک کیلئے کیا کر سکتا ہوں۔ پھر میں اس نتیجے پہ پہنچا کہ میم قدر سست ہوں کہ عملی طور پر تو کچھ بھی کرنا ناممکن ہو گا۔ ہاں میں چند لفظ ضرور تحریر کر سکتا ہوں۔

اس دن سے آج تک میں نے صرف اور صرف وہ لکھا ہے جس سے اس ملک کے شہریوں کو ایک آدھ لفظ امید کا مل سکے، ایک مثبت احساس ہو اور ہمارا ہر ہر قدم اس ملک و قوم کیلئے منفعت بخش ہو۔ تو میں ذاتی طور پہ یہ سمجھتا ہوں کہ ہم روزانہ کی بنیاد پہ ایک دو چار منٹ تو اس ملک کو دے سکتے ہیں جب ہم خالصتاً اس ملک و قوم کیلئے کچھ مثبت کر سکیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

یومِ آزادی کے تقاضے

ابھی بیٹھے بیٹھے میں سوچ رہا تھا کہ دنیا میں جہاں جہاں تقریبات ہوتی ہیں، کسی نا کسی حوالے سے کوئی دن منائے جاتے ہیں ان میں سب سے پہلے پچھلی دفعہ کیے گئے اقدامات کا اعادہ کیا جاتا ہے، ان کی بڑھوتری اور اثر کا جائزہ لیا جاتا ہے اور پھر جا کر اس سال کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا اعلان کیا جاتا ہے اور تب جا کر کہیں خوشی منانے کا وقت آتا ہے۔

لیکن ہمارا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

ہم لوگ سب سے پہلے خوشی مناتے ہیں۔ پھر آئندہ کیلئے بلند بانگ دعوے کرکے فضا کو جھوٹ سے متعفن کرتے ہیں اور پہلا کام جو کہ سب سے اہم ہے، اس کو ہمیشہ بھول جاتے ہیں۔

مثال کے طور پہ ابھی چودہ اگست کو ہی لے لیں۔

پورے پاکستان میں اس کی خوشیاں منانے کا سلسلہ ابھی سے شروع ہو چکا ہے۔ تقریریں، ڈانس شوز، ڈرامے، منچلوں کی آوارہ گردیاں، سبز پرچموں کی بہار الغرض خوشی منانے کے وہ وہ طریقے ایجاد کیے جاتے ہیں کہ نفسیات خود حیران رہ جاتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کام تیسرا یا سب سے کم اہمیت والا ہے۔

پھر دوسرا کام یعنی ہر صاحبِ حیثیت اپنے اپنے حلقہِ اثر کی تقریب میں ایسے ایسے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے کہ اگر بعد میں وہ خود سن لے تو یقین نہیں آتا ہے اور اکثر کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو سیاسی بیان تھا۔ کسی مستقل اور قابلِ عمل کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ ناظرین کو خالی دعووں پہ ہی گزارا کرایا جاتا ہے۔

میں نے اپنی دس سالہ پیشہ ورانہ زندگی اور اس سے پہلے سولہ سالہ طالبعلمی کے دور میں آج تک کسی بھی یومِ آزادی کی تقریب میں ماضی کے اقدامات کا اعادہ ہوتے نہیں دیکھا۔ شاید اکا دکا جگہوں پہ ایسا ہوتا ہو۔ یاد رہے کہ کای بھی دن کے منانے کا مقصد پورا کرنے کا یہ سب سے اہم قدم ہے۔

کیا ہم ایسا کچھ نہیں کر سکتے کہ اس دفعہ یومِ آزادی کو ابھی سے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے منایا جائے۔ ابھی سے اپنی ترجیحات کے پیش نظر ایسے اقدامات کو چُنا جائے جن سے پاکستان اور ہر ہر پاکستانی کی فلاح ہو، ان اقدامات کو مسلسل آگے بڑھانا چاہیے اور سارا سال ان کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ اگلے یومِ آزادی والے دن ہم سب سے پہلے اس فخر کے ساتھ کھڑے ہو سکیں کہ ایک سال میں ہم یہ بہتری لائے ہیں۔

کوئی بھی ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ پودا لگایا جا سکتا ہے، کسی غریب کو مفت ٹیوشن پڑھائی جا سکتی ہے، گلی محلے کی صفائی کا لائحہ عمل بنایا جا سکتا ہے، پرندوں کو بچا کر آزاد ہوا میں چھوڑا جا سکتا ہے، مطلب کچھ بھی ایسا ہو جس کو آپ ایک مثبت بہتری کے سیمپل کے طور پہ اگلے سال پیش کر سکیں۔ یقین کریں قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ پاکستان کا حسن انہی چھوٹے چھوٹے مگر حسین اقدامات سے ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

مارننگ کافی اور مثبت سماجی پاکستانیت

اگر آپ ایک کلاسیکل دفتری قسم کی زندگی گزار رہے ہیں تو آپ کی زندگی میں صبح کے اخبار کی بہت اہمیت ہو گی۔ کیونکہ یہ وہ پہلی چیز ہے جس پہ نظر مار کر آپ کی آنکھ صحیح معنی میں کھلتی ہے اور صبح کا آغاز ہوتا ہے۔

بہت پہلے مجھے کسی نے کہا تھا کہ اگر اخبار کا مزا لینا کو تو دو کام کریں۔ پہلا کام گزشتہ سے پیوستہ اور دوسرا کام گائوں کے ہوٹل پہ ادرک گُڑ والی چائے۔ ساتھ میں اگر سردیوں کی دھوپ بھی میسر آ جائے تو سونے پہ سہاگہ ہو گا۔ اگرچہ مجھے یہ تمام چیزیں بفضلِ خدا میسر رہی ہیں مگر اکٹھی نہیں۔

آج کا اخبار مجھے اس لحاظ سے بھی بہت اچھا لگا کہ اس میں پاکستان کے اگلے متوقع وزیرِ اعظم عمران خان کو کابل دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ ساتھ میں طالبان امریکہ مذاکرات کو مثبت قراد دیا گیا تھا۔ گزشتہ کو ساتھ پیوستہ کرتے ہوئے ایک مبہم امید ہوتی ہے کہ ہم امن کی جانب بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔

ویسے یہ خبریں پڑھ کر مجھے اب لگ رہا ہے کہ مجھے اپنے ویٹر کی بات ماننا ہی پڑے گی جو مجھے جاتے جاتے کہہ جاتا ہے کہ سر آپ بہت سخت کافی پیتے ہیں۔ اب مجھے پانی میں کافی کی مقدار گھٹا کر اپنی آنکھوں کی بے آرامی کچھ دیر کیلئے آرام میں تبدیل کرنا ہو گی کیونکہ اب شاید وہ لمحہ آ گیا ہے کہ ہمارے اندر ایک قومی سوچ پروان چڑھنا شروع ہو گئی ہے۔

آپ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوں گے کہ وہی لوگ جن کو سیاسی لیڈر اس حد تک اشتعال دلا چکے تھے کہ وہ مرنے مارنے پہ تلے بیٹھے تھے، ان میں سے اسی فیصد سے زائد لوگ باہم شیروشکر ہو کر پاکستان کا سوچ رہے ہیں۔ لوگوں کی سوچ اور جذبوں میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے۔ کل رات کو ہم ایک ہوٹل پہ گئے ہوئے تھے تو میں نے خالی ماچس باہر پھینکنا چاہی تو وہاں بیرے نے آگے بڑھ کر کہا کہ سر نیچے پھینکنے سے بہتر ہے مجھے دے دیں، میں اس کو ٹوکری میں پھینک آتا ہوں۔

شاید وہ ہوٹل والے پہلے سے ہی مہذب ہوں اور میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہو۔ اُسی ہوٹل میں تحریکِ انصاف اور ن لیگ والے ایک دوسرے کو دعوت بھی کھلا رہے تھے۔

تو بات یہ ہے کہ یہ سیاسی ، سماجی اور معاشرتی تنوع ہمارا حسن ہے، ہمارے خیال کی لطافت ہے، ویسے بھی اللہ پاک نے اختلافِ رائے کو رحمت قرار دیا ہے۔ اس رحمت کیلئے دامنِ دل وا کیجیے۔ اللہ پاک بہت کریم ہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

بھیگتے قدموں کی تاریخ

اقوامِ عالم کی بدقسمتیوں کو اگر شمار کیا جائے تو سب سے بڑی اور اہم بدقسمتی اس قوم کا اپنی تاریخ کو بھلا دینا ہے۔ میں یہی سوچتا ہوا خراماں خراماں کشمیر سے آنے والی خصوصی برسات میں بھیگتا جا رہا تھا کہ اچانک گجرات جمخانہ سے دوقدم آگے مجھے تاریخ نے اپنی آغوش میں لے لیا۔

بن

سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ چرچ کا سُرخ ایستادہ کراس سبز پس منظر میں تاریخ کے ہر طالب علم کو اپنے دامن میں جگہ دینے کو بے تاب تھا۔ مجھ سے رہا نا گیا۔ اُس طرف مڑا اور ایک ویران سے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو اندر کی دنیا اس قدر بدلی نظر آئی کہ میں خود حیران رہ گیا۔

انگریز نے جب کشمیر کی فتح شروع کی تھی تو ابتداء گجرات سے ہوئی اور تب ۱۸۴۲ء میں اس چرچ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ چرچ کی عمارت، چھت، کھڑکیوں اور دروازوں کے چوکھاٹ اور روسٹرم ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ جبکہ اُس دور کے لگائے ہوئے کچھ نادر و نایاب پودے بھی ابھی تک موجود ہیں۔

سُنا ہے کہ پہلے دور میں اس چرچ کو پھولوں والا چرچ کہا جاتا تھا۔ کرسمس، ایسٹر اور باقی تہواروں پہ پورا گجرات ان پھولوں کو دیکھنے کو امڈ پڑتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اب نرسری تو موجود ہے مگر کچھ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اب پھولوں کی وہ آب و تاب اور انتظام باقی نہیں رہا۔

چرچ کے کئیر ٹیکر شاہد پال ولیمز اور پاسٹر آصف بہت ہردل عزیر، تاریخ سے محبت کرنے والے ، انسانیت پرست اور عیسائیت کیلئے بڑے مخلص انسان ہیں۔ میں نے ان کو صرف اتنا کہا کہ مجھے تاریخ سے محبت ہے اور انہوں نے مجھے چرچ کی مکمل تاریخ سے آگاہ کیا اور تصاویر لینے کی اجازت بھی دی۔ مجھے بتا رہے تھے کہ جب حالات اچھے تھے تو سٹوڈنٹس اور تاریخ سے محبت کرنے والے لوگ اکثر یہاں پائے جاتے تھے مگر اب دہشت گردی کی وجہ سے یہ کام مانند پڑ گیا ہے۔

مذہبی امور کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو یہ چرچ ایک تاریخی اثاثہ ہے، اپنے قدرتی حسن اور فلورا کی وجہ سے انتہائی حسین تفریحی مقام ہے اور ایڈونچر پسند انسانوں کیلئے ایک جامع منزل بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم اپنے نظریات کو اس حد تک انتہا پسند بنا چکے ہیں کہ ہمیں یہاں سے گزرتے ہوئے بھی عیسائیت سے ایک منفی قسم کی دوری کا احساس ہو گا۔ حالانکہ مذہبی ہم آہنگی شاید اس دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ویسے بھی ہمارے معاشرے کا حسن ہی یہی ہے کہ تمام مذاہب کو ساتھ لیکر ایک فلاحی معاشرے کا تصور ہمیں اسلام کی طرف سے ملا ہے۔ ہندو، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذاہب ہمارے ملک کے شہری اور اپنی رسم و روایات کیلئے مکمل آزاد ہیں اور یہ آزادی انہیں ریاست دیتی ہے۔ ہمیں صرف اور صرف ایک دوسرے کو پیار دینا ہے۔ جنت نظیر ہونا اسی پیار کا مرہونِ منت ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

کچرا کہانی

جس طرح ممتاز مفتی کوئی پچاس سال انسانی نفسیات کے گورکھ دھندھوں کو کھنگالنے کے بعد اس نتیجے پہ پہنچا کہ انسان کا بنیادی مسئلہ “میں” ہے۔ اسی طرح میں بھی کوئی پانچ سال فیس بک کی دانشوری کے بعد اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ہمارا بنیادی مسئلہ “کچرا” ہے۔ وہ کچرا الفاظ کا بھی ہے، انسانوں کا بھی ہے، اشیاء کا بھی ہے اور مادی بھی ہے۔ لیکن یقین کیجیے یہ انسان کی بنیادی ضرورت میں شامل ہے کہ اُسے کچرے سے نمٹنے کی تربیت دی جائے۔

میری ترتیب میں سب سے اہم کچرا حسیّات کا ہے جس میں سماعت، بصارت وغیرہ شامل ہیں۔ آپ نے کبھی غور کیا ہے، نہیں کیا ہو گا مگر میں بتائے دیتا ہوں کہ میرے اندازے کے مطابق ہم روزانہ اسی فیصد سے زیادہ وہ چیزیں دیکھنے ، سُنتے اور محسوس کرتے ہیں جن کا ہمارے مقصد ، ہماری ضرورت اور ہماری زندگی کے باقی اہم معاملات سے بالکل بھی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن یہ ہمارے لاشعور کا مسلسل حصہ بنتا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ ہماری سوچ اسی کچرے کے تابع ہو کر ان تمام غیر ضروری محرکات کو ضروری بنا لیتی ہے۔

میڈیا وارفئیر کا بنیادی نظریہ اپنی اپنی مرضی کا کچرا اپنی مرضی کے دماغوں میں انڈیلنا ہے جس کیلئے ہمیں وہی کچھ دکھایا، سنایا اور پسند کرایا جاتا ہے جس کے پیچھے ان لوگوں کے مقاصد چھپے ہوتے ہیں۔ اور اس طرح ہم اس کچرے کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہم لوگ بغیر لڑے ہتھیار ڈال کر اور اپنے ہاتھ باندھ کر اپنی سوچ کو ان مذموم مقاصد کے سامنے ڈھیر کر دیتے ہیں۔

ایسا نہ بھی ہو، تب بھی یہ حسیات کا کچرا ہماری سوچ میں انتشار کو پروان چڑھاتا جاتا ہے جس کے تحت ہمارا دماغ کچھ بھی تعمیری کرنے سے قاصر ہوتا جاتا ہے۔ تمام فنکار کسی بھی فن کی تخلیق کیلئے تنہائی اور خاموشی کو اسی لیے ترجیح دیتے ہیں تاکہ ماحول میں موجود یہ غیرضروری انرجی ان کے خیال پہ اثر انداز نا ہو سکے۔ اولیاء کو بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ اللہ پاک کی عبادت کیلئے تنہائی اور خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ تہجد کا وقت اسی لیے سب سے زیادہ فائدہ مند رہتا ہے کیونکہ اُس وقت تمام غیرضروری آوازیں اور منظر موجود نہیں ہوتے۔

خیر بات پھر کسی نا کسی طرف سے ہوتی ہوئی اُدھر ہی پہنچ گئی۔ مجھے یہ کہنے میں بالکل بھی عار نہیں کہ ہم سب اس کچرا منڈی میں برابر کے شریک ہیں لیکن ہم کوشش کرکے اس کو بہتر تو کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پہ میرے دفتر کے باہر ایک ائیر کولر لگا تھا جس کے شور سے میرے ہروقت سر میں درد رہنا شروع ہو گیا تھا۔ گو کہ یہ سردرد فٹ سال کھیلتے ہوئے سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے تھا مگر کم تھا اور اب بہت زیادہ ہو گیا تھا۔

کسی نے کھڑکی کے سامنے کینو کا پودا لگا دیا۔ جس کی ٹھنڈک اتنی تھی کہ کولر کی ضرورت نا رہی اور اب کھڑکی کھول کر کینو پہ بیٹھے پرندوں کی آوازیں سنتے ہوئے یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں۔ یہی کام کمرے کی ائیر اور سائونڈ پروفنگ کرنے کے بعد ائیر کنڈیشنر لگا کر بھی کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اُس طرح میں ماحول میں مزید مادی کچرا شامل کر دیتا۔ اس کام پہ جتنے وسائل خرچ ہونے تھے وہ الگ اپنی جگہ کچھ نا کچھ کچرا ماحول میں شامل کرتے۔

خیر کچرا کہانی کا اختتام تو مشکل ہے پر اتنا ضرور کہوں گا کہ اپنی ترجیحات کو اس طرح ترتیب دیں کہ ماحول میں کم سے کم کچرا شامل ہو۔ میرا کزن روزانہ ٹشو کا ایک ڈبہ استعمال کر جاتا ہے جس سے روزانہ کی بنیاد پہ بہت زیادہ مادی کچرا ماحول میں شامل ہوتا ہے۔ حالانکہ وہی کام ایک رومال سے بھی ہو سکتا ہے۔ ہم لوگ تووہ قوم ہیں جس کو شمالی علاقہ جات کی صورت میں ایک جنتِ ارضی سے نوازا گیا ہے مگر اس کو بھی ہم اپنی باقیات سے نوازنا شروع ہو گئے ہیں۔

اپنی حسیات کو جس قدر ہو سکے صاف رکھیں تاکہ آپ کا گھر صاف ہو، آپ کا عمل صاف ہو، آپ کی سوچ سے کچھ نا کچھ تخلیقی اور تعمیری جنم کے سکے۔ یہ نا ہو کہ گھر کا کچرا سامنے سڑک پہ پھینک دیں، ہر کسی کو پتا لگے کہ اندر اور باہر میں کس قدر تضاد ہے۔ تضاد بھی انسان کو مار دیتا ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

نیا پاکستان مبارک ہو

نئے پاکستان کا پہلا دن مبارک ہو۔

ایسی کوئی بات نہیں۔ پاکستان پاکستان ہے، نیا پرانا کچھ نہیں۔ لیکن اتنا میں ضرور کہوں گا کہ چاہے آپ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں، کسی بھی علاقے سے تعلق ہو، کسی بھی مذہب یا برادری کے پروردہ ہوں، عمران خان کا خطاب سننے کے بعد دل کے کسی کونے میں پاکستانیت کا فخر ضرور بیدار ہوا ہو گا۔

اگرچہ ایک انگڑائی ہی سہی۔ مگر اتنا عاجزانہ سا، حقیقی اور مخلصانہ خطاب میرے خیال میں کسی بھی سیاسی ، مذہبی یا معاشرتی صاحبِ رائے نے ایسی پوزیشن میں آکر نہیں کیا ہو گا۔ کسی نے کہا تھا کہ

آنے والے کمال کے دن ہیں

عظمتِ ذوالجلال کے دن ہیں

اور اتنی خوبصورت ابتداء سے تو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ آنے والا وقت تو کسی نہیں دیکھا لیکن میں یہاں کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا جن کا خیال رکھنا ہم میں سے ہر ذمہ دار شہری کا فرض ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر انسان ایک رائے رکھتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔ ہر کسی کی رائے کا احترام ہم پہ فرض ہے۔ جیت ہار سب اُس رائے کا نتیجہ ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھ دیں۔ ہر کسی کا احترام کریں اور خاص طور پہ ہر پاکستانی کا احترام کریں۔

پاکستان میں ایسے بھی لوگ ہیں جو ابھی تک بھی پاکستان کے قیام کو غلط فیصلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ک ہم ان سے لڑائی شروع کر دیں۔ وہ اس ملک کے شہری ہیں اور ان کی رائے کا احترام ہم پہ فرض ہے۔ پیار محبت اور اخلاق ہی ہمیں ایک سچا پاکستانی بنائے گا۔ اور اخلاق سے ہی ہم ایک دوسرے کا دل جیت سکتے ہیں۔ میرے دوست ہندو بھی ہیں۔ اور وہ مجھ سے ایسے ہی پیار کرتے ہیں جیسے میرے گھر والے۔ یہی پاکستانیت ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ یہ ملک ہمارا ہے، اس میں موجود سب کچھ ہمارا ہے۔ اس سے پیار کریں۔ یقین کریں کبھی کبھی ایسے لگتا ہے کہ اتنا خوبصورت ملک اللہ پاک کی ذات نے خصوصی طور پہ ہمارے لیے رکھا تھا۔ میری بہت خواہش ہے کہ پورا ملک دیکھ سکوں۔ گو کہ ابھی تک آدھا بھی نہیں دیکھا لیکن اس کی خوبصورتی مجھے ہمیشہ جنت کی یاد دلاتی ہے۔ اس کا یہ جغرافیائی اور ثقافتی حسن برقرار کریں۔

خاص طور پہ ان الیکشنز کے بعد ایک قومی سوچ جو پروان چڑھی ہے، اس کو قائم رکھیں۔ یقین کریں اللہ پاک بہت کریم ہیں۔ پچھلی حکومت میں انفراسٹرکچر بنا ہے، اس حکومت میں ادارے بنیں گے اور پھر ہمارے ملک کی ہاں میں اقوامِ عالم کی ہاں ہو گی۔ یہاں ہر کوئی اپنا اپنا رول ادا کر رہا ہے۔ اعتماد کا رشتہ قائم کریں۔ یقین کریں یہ استاد، سیکورٹی فورسز، واپڈا کے لوگ تمام محکمہ جات ہمارے اعتماد اور پیار کے دو بولوں سے بہت کچھ کر جاتے ہیں۔ کبھی کر کے دیکھیے گا۔

بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں لیکن پوسٹ کی طوالت کو دیکھتے ہوئے اسی پہ اکتفا کرتا ہوں۔ باقی باتیں اگلی پوسٹ میں۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

ادیب سے شہاب تک

میں بہت وقت سے ایک سوال دل میں دبائے بیٹھا تھا لیکن زبان پر نہیں لانا چاہ رہا تھا۔ زبان پہ تو بس یہی تھا کہ اگر یہاں اللہ کے واسطے آئے ہو تو پھر اللہ کی بات کے علاوہ کوئی بھی بات آپ کے مقام پہ بلاواسطہ شرک کے زمرے میں آئے گی۔ خیر اتنی بڑی سرکار میں اتنا چھوٹا سوال بھی نظرانداز ہوجانا ناممکن تھا۔

سو وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔

پہلے کی بات ہے کہ ایک بار ہم چند دوست آپس میں جائز اور ناجائز کے موضوع پہ بات کر رہے تھے۔ میرے ایک دوست فرمانے لگے کہ جائز اور ناجائز کو اگر شریعت سے ہٹ کر دیکھا جائے تو بہت وسعت والی بات ہے۔ معاشرے میں جائز اور ناجائز کے پیمانے وہاں پہ موجود سماجی دبائو کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ جیسے منٹو کو اگر ایک مسلمان سے ہٹ کر دیکھا جائے تو وہ تب تک عورت کے پیچ و خم میں الجھے تاروں کی شناخت کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ دو چار جام اپنے اندر انڈیل نا لے۔

جب شرع کی بات آئے گی تو جائز اور ناجائز کے پیمانے شرع کے لحاظ سے قائم ہو جائیں گے۔ تب ہر انسان پہ حد لاگو ہو گی۔ مجھے بھی لکھنے کا شوق تھا تو میں یہ توجیح سن کے کانپ سا گیا۔ اُس دن سے اب تک یہ خواہش میں نے پرانے کپڑوں کی طرح تہہ کر کے کسی خاموش کونے میں سینت کر رکھ دی تھی۔ پر یہ کبھی کبھی اپنا آپ باور ضرور کراتی تھی۔

آج پھر میں جب سے فاتحہ خوانی کر کے فارغ ہوا تھا، تب سے مسلسل یہ خواہش سر اٹھا رپی تھی۔

پھر اچانک شعور میں ایک خلا سا محسوس ہوا اور اس خلا کی تختی پہ کچھ لفظ خودبخود کنندہ ہونے شروع ہو گئے۔

ایسے لکھا گیا کہ ہر تخلیق کار کسی نا کسی کیفیت کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کیفیت کیلئے اُس کو کچھ مخصوص محرکات کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمام حدود ان محرکات اور ان کی وجہ سے تخلیق ہانے والے فن پاروں پہ لاگو ہوتی ہیں۔ اگرچہ حد لاگو ہونی نہیں چاہیے مگر یہ سماجی ضرورت ہے۔ یہاں پہ تمام تخلیق کار اپنا اپنا فن جھاڑتے اور یہیں تک ختم ہو جاتے ہیں۔

ان سے آگے بھی ایک مرحلہ ہے جہاں تک صرف وہی پہنچتے ہیں جن کو اللہ کے فضل سے ضبط عطا ہوتا ہے۔ یہ ضبط ان کو ان تمام محرکات سے آزاد کر دیتا ہے۔ وہ ان تمام محرکات سے اپنی ضرورت کا احساس لے کر پھر ان سے آزاد ہو جاتے ہیں تب جا کر وہ اپنی تخلیق کو ایک شکل دیتے ہیں۔ ایک تو ان کی یہ تخلیق جاوداں سی ہوتی ہے اور دوسرا وہ اپنی تخلیق پہ ہمہ وقت قادر ہوتے ہیں۔ ان کا لکھا ہوا ادب تمام ادب سے ایک درجہ اوپر اور ممتاز ہوتا ہے۔ جیسے قدرت اللہ شہاب کا ادب دیکھ لو۔ جتنا لکھا، سب سے ممتاز اور ادب کے تمام پیمانوں کو پورا کرتے ہوئے بھی ان سب سے ممتاز ہے ۔اگر تم نے ادب تخلیق کرنا ہے تو اللہ سے ضبط مانگو اور ساتھ یہ بھی کہ کسی ایسے ادیب سے اللہ آشنائی بھی عطا کرے۔

تب سے اب تک مجھے لکھنے کا شوق نہیں رہا۔ اب یہی تلاش ہے جو لکھواتی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

نوٹ: یہ ایک فرضی کہانی ہے۔

اخلاقیات کا ماتم

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ مجھے فوڈ پوائزننگ ہو گئی۔ ساری رات کرب میں گزارنے کے بعد صبح صادق کے وقت اللہ پاک کے فضل سے وومٹ ہوئی اور سارا زہریلہ مادہ جسم سے باہر نکل گیا۔ اس کے بعد سکون سے کچھ دیر نیند آئی اور پھر ہسپتال سے دوائی لایا اور الحمد للہ صحت بالکل ٹھیک ہو گئی۔

وقت تھا، گزر گیا۔ لیکن میں اُس کے گزرنے کے بعد دو تین دن یہی سوچتا رہا کہ کیسے ہمارے جسم میں خودکار نظام کو پتا چلا کہ زہریلا مادہ آ گیا ہے جسے معدے میں جانے سے روکنا ہے۔ اور پھر کیسے اینٹی پیراسٹالسز کے ذریعے اس کو جسم سے باہر نکال دینا ہے۔

بات یہیں تک ہوتی تو بھی سوچوں کا سلسلہ رُک جاتا۔ مگر بات بہت آگے گئی۔ ہوا یوں کہ مجھے یاد آیا ایک جگہ پڑھا ہوا کہ انسان کائنات کا پرتو ہے۔ سارے نظارے اور ذائقے اور ان سے جڑے تمام احساسات تو انسان کے اپنے اندر ہیں۔ بیرونی دنیا تو مادہ ہے بس جو وزن رکھتی اور جگہ گھیرتی ہے۔

تو میں اس نکتے پہ پہنچا کہ یقیناً ہماری ذات کے اندر بھی یہی اینٹی پیراسٹالسز کا عمل ہوتا ہو گا جس سے تمام زہریلی چیزیں ہمارے سامنے ابل پڑتی ہوں گی اور پھر ان کو ہماری ذات سے بے دخل کرنے کا نظام بھی ہو گا۔ روحانی بھل صفائی کا خودکار نظام بھی ضمیر کی زیرِ کمان کام کرتا ہو گا جس سے تمام تر ناہمواریاں ہمارے سامنے آکر ہماری قوتِ فیصلہ کو چیلنج کرتی ہوں گی۔

پھر یہی نظام شخص سے بڑھ کر معاشرے پر بھی اپلائی ہوتا ہو گا۔ اس بات کو ثابت کرنے کیلئے میرے پاس دلیل تو کوئی نہیں البتہ آبزرویشن ہے کہ مثال کے طور پہ جیسے آج کل سیاست اپنی اخلاقی قدروں کو ہمارے سامنے کھول رہی ہے، زہریلہ مادہ فرد کے سامنے آ رہا ہے۔ عام آدمی اپنے مستقبل کے فیصلے کیلئے اب ان تمام چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ماننا نہ ماننا اور بات ہے لیکن یہ سب کچھ اگلنا اور عام آدمی کی سطح تک اس شعور کا پہنچنا بھی فطرت کی خودکار شعوری بھل صفائی کا ایک حصہ ہے۔

اب اس سے اگلہ مرحلہ صفائی اور پھر سکون کا ہو گا۔ اخلاقی صفائی بہت ضروری ہے۔ ہر انسان اپنی انفرادی حدود میں اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنی اخلاقیات کی بھل صفائی کا عمل مسلسل اور جاری رکھے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتا تو نا تو عبادات کا کوئی فائدہ ہے اور نا ہی معاشرے میں پندونصائح کے دفتر لگانے کا۔

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد

نوٹ: میری کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی وابستگی نہیں۔ اوپر بات سمجھانے کو سیاست کی مثال دی ہے کہ کیسے اخلاقیات کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اخلاقیات کی تربیت کا اہتمام کریں اور کم از کم اپنے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جانوروں پہ رحم کھائیں، پودوں کو نقصان نا پہنچائیں اور سیاسی وابستگی کے پیشِ نظر اپنے نجی تعلقات خراب مت کریں۔ رائے کا فرق ہر کسی میں ہوتا ہے۔ یہ انسان کے شعوری ارتقاء کی دلیل ہے۔

دکھاں دی روٹی، سولاں دا سالن

یہ شاید دسمبر یا جنوری کی بات ہے، پنجاب اس وقت شدید سردی اور دھند کی لپیٹ میں تھا۔ میں فجر کی نماز کے بعد ٹھٹھرتا ہوا تنویر الحسن صاحب کے آستانے تک پہنچا تھا۔ وہ بڑے لوگ ہیں، ان کا بڑا پن کہ انہوں نے مجھے اپنی مصروفیات سے کچھ وقت دیا تھا۔ جیسے ہی میں پہنچا، انہوں نے گرم گرم چائے سے تواضع کی۔ ایک مرید کو گرم نان اور مٹن سے ناشتہ تیار کرنے کا حکم دیا۔

میں بڑا چپ چپ اور باادب سا ہو کے بیٹھ گیا۔ اگرچہ میں اتنا باادب ہوتا نہیں ہوں مگر کیا کرتا، سردی ہی اتنی تھی کہ بولا نہیں جا رہا تھا۔ تعارف سے بات شروع ہوئی اور سلطان باہو رح کے کرم تک جا پہنچی۔ فرمانے لگے کہ ابھی کچھ دیر بعد ان کا شہزادہ دانہ ڈال کے آ جائے گا۔ اُس کو حکم ہے کہ سردیوں کے چھ ماہ ننگے سر ننگے پائوں اور ستر کے علاوہ بغیر کسی اضافی کپڑے کے فجر کے بعد پرندوں کو دانہ ڈالنے جایا کرے۔ لڑکپن کی عمر، اتنی شدید سردی اور کوئی ایک دو میل دور فجر کے بعد اندھیرے میں یہ حکم کی تعمیل، میں تو سن کر دل ہی دل میں شکر کر رہا تھا کہ میں اس راہ سے دور ہی اچھا۔

بتانے لگے کہ سلطان باہو رح کا بہت کرم ہے اور اس شہزادے کی تربیت بھی انہی کے زیرِ سایہ ہو رہی ہے۔ دل ہی دل میں مجھے سلطان باہو رح کی ہمسائیگی پہ بڑا رشک محسوس ہواکہ

جہاں جہاں بھی گیا ہوں فقیر بن کے تیرا

تیری نگاہِ کرم ساتھ ساتھ آئی ہے

خیر بات اُن کے کرم کی تو ہے ہی۔ مگر ظاہری دنیا کے اصولوں کو بھی اگر کسوٹی مان لیا جائے تو فقیر تمام تر دنیاوی پیمانوں کی چکی سے پس کر بنتا ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ہر ہر لمحہ امتحان اور ہر ہر قدم پہ حدود سخت سے سخت تر ہوتی جاتی ہیں۔ علم اور عمل دونوں کسوٹیوں پہ پورا اترنا ہوتا ہے، پھر جا کے کہیں کچھ گوہرِ مقصود ہاتھ آتا ہے۔

ایک بار پھر بات کہیں اور نکل گئی۔

ہر درویش کی تربیت کا الگ طریقہِ کار اور الگ معیار ہوتا ہے۔ یہ طریقہ ہر ارادت مند کے لحاظ سے تبدیل ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے ایک ارادت مند کو سبزی کھانا منع ہو اور دوسرے کو صرف سبزی کی ہی اجازت ہو۔ یہ بات سمجھانے کیلئے کی ہے۔ سب سے پہلا قدم شرع کا ہے، اگر شرع مکمل ہے تب جا کے دوسرا قدم اٹھتا ہے اور یہ دوسرا قدم طریقت کا ہے۔ اگر شریعت اور طریقت دونوں پہلو انسان کی ذات کا حصہ ہیں اور ان دونوں پہلوئوں کو علم و عمل سے سینچا جا رہا ہے تو تب جا کے مومن کا لفظ وجود پاتا ہے۔

ورنہ سب راستے میں ہیں۔ جو جہاں دعویٰ کر جاتا ہے، وہ وہیں سے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ باقی سب سر جھکائے، آنکھوں کو فرشِ راہ بنائے سوئے مدینہ رواں ہیں۔ جہاں سے عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آبِ حیات سے روح سیراب ہوتی ہے اور انسان اپنے منبع کی طرف لوٹتا ہے۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ “جس نے اپنے آپ کو پہچانا ، اُس نے رب کو پہچانا”۔

خیر شہزادہ آ گیا۔ چہرے پہ ایک مسکراہٹ سجائے۔ میں نے بھی گرم گرم نان سے ناشتہ تناول کیا، تنویرالحسن صاحب نے اپنی دو کتب عنایت کیں اور میں واپس آ گیا۔ لیکن اب کبھی کبھی ایسے لگتا ہے کہ پرندوں کو دانہ ڈالنا واقعی بڑا مشکل کام ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ مردوں کا کام ہے۔ وہ میاں محمد بخش جہلمی رح کا ایک شعر ہے نا کہ

ہر مشکل دی کنجی یارو ہتھ مرداں دے آئی

مرد نگاہ کرے جس ویلے مشکل رہے نا کائی

اور حضرتِ اقبال رح نے تو بات کھول کے رکھ دی کہ

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

اللہ پاک ہم سب کو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزاد